شارجہ کے شہریوں نے پی ایس ایل کا بائیکاٹ کر دیا

شارجہ : پاکستان سپر لیگ کا آغاز 22 فروری کو متحدہ عرب امارات کے شہر دبئی سے ہوا. ایونٹ کی افتتاحی تقریب میں صرف 10 ہزار افراد شریک تھے جبکہ دبئی انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم میں 25 ہزار افراد کے بیٹھنے کی گنجائش ہے. جس کا مطلب ہوا کہ اسٹیڈیم آدھے سے زیادہ خالی تھا. جس پر چیرمین پی سی بی نجم سیٹھی نے بھی افتتاحی تقریب سے خطاب میں کہا دعوی کیا تھا کہ تمام ٹکٹ فروخت ہوگئے. لوگ تو ٹریفک کے باعث اندر نہیں پہنچ سکے.

افتتاحی تقریب کے بعد اگلے روز جمعہ کو متحدہ عرب امارات میں عام تعطیل کے باوجود شائقین کرکٹ نے پاکستان سپر لیگ کے میچ دیکھنے کیلئے دبئی کرکٹ اسٹیڈیم کا رخ نہ کیا. یہ سلسلہ 26 فروری تک جاری رہا. اسٹیڈیم میں محدود تماشائیوں کے ساتھ قومی کرکٹرز کھیلتے رہے.

آخری دعوی یہ کیا گیا کہ شارجہ میں دبئی کی نسبت پاکستانی خصوصاً پٹھان زیادہ ہیں جو یقیناً میچ دیکھنے کیلئے اسٹیڈیم کا رخ کریں گے. مگر پی سی بی کے دعوؤں کی کلی اس وقت کھل کر سامنے آگئی جب شارجہ میں بدھ کی شام پہلے ایڈیشن کی دونوں فائنلسٹ ٹیموں، اسلام آباد یونائیٹڈ اور کوئٹہ گلاڈئٹیرز، کے درمیان میچ کے دوران اسٹیڈیم کا 80 فیصد حصہ خالی رہا. شائقین کرکٹ کا پاکستان سپر لیگ کے تیسرے ایڈیشن کیلئے میچ دیکھنے کیلئے اسٹیڈیم کا رخ نہ کرنا پی سی بی کیلئے شدید تشویش کا باعث بنتا جارہا ہے۔

خیال رہے کہ پی ایس ایل سیزن تھری کے شارجہ میں کھیلے گئے پہلے میچ میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے اسلام آباد یونائیٹد کو شکست سے دوچار کیا۔

Comments are closed.